14 ستمبر 2026 - 15:50
سینٹکام کمانڈر کا بڑا اعتراف، ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر تیزی سے کم ہوگئے

امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی کی رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے اس خبر کو زیادہ اہمیت نہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امریکا نے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کے اپنے ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، خطے میں ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ سینٹ کام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج مکمل طور پر مسلح ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔

کوپر سے جب امریکی میزائل ذخائر میں کمی کے حوالے سے تشویش کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے بالکل تشویش نہیں اور امریکی فوج ہر ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے حالیہ میزائل حملے کے دوران امریکا نے 30 سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے۔

رپورٹ میں فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد امریکی افواج نے اپنے پیٹریاٹ میزائلوں کے تقریباً 45 فیصد جبکہ تھاڈ نظام کے نصف سے زیادہ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے ہیں۔

اس سے قبل سامنے آنے والے اندازوں کے مطابق جولائی کے آخر تک امریکا کے پیٹریاٹ میزائل ذخائر جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ایک تہائی تک رہ گئے تھے، جبکہ تھاڈ میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ طویل جنگ کے باعث امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائل ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات ہیں اور واشنگٹن خطے میں وسیع فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha